بنگلورو،16؍فروری (ایس او نیوز) متنازعہ کرناٹکا گئو کشی قانون 2020 بالاخر پیر کو گورنر واجو بھائی والا کی دستخط کے بعد جار ی کیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی یہ بل اب مستقل قانون کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس بل کو لے کر سیاسی گہما گہمی زوروں پر تھی، اخبار دی ہندو کی رپورٹ پر بھروسہ کریں تو ایک طرف کانگریس اور دوسری طرف جے ڈی ایس نے ابتدائی مراحل میں اس بل کی مخالفت کرتے نظر آئے تھے مگر بعد میں جے ڈی ایس نے ہی بی جے پی کا ساتھ دیتے ہوئے لیجسلیٹیو کونسل میں اس بِل کی حمایت کرکے اسے منظور کرایا اور بی جے پی حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی ساکھ کو بحال کیا۔ 15 فروری 2021 کو جاری گزیٹ نوٹیفیکیشن کے مطابق اس قانون کو 12 فروری 2021 کو گورنر کی دستخط حاصل ہوئی اور اسطرح گئو کشی پر پابندی کا قانون سال 2021 کا پہلا قانون قرار پایا ۔
اس قانون کے مطابق گائے، بیل، سانڈ، بچھڑا اور 13 سال سے کم عمر کی بھینس، بھینسا کے ذبیحہ پر پابندی عائد رہے گی۔ یعنی صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس اور بھینسا کو ذبح کرنے کی اجازت ہوگی۔ انسداد گئو کشی قانون میں مویشی کا لفظ استعمال ہوا ہے جس میں گائے اور گائے کی نسل کے تمام جانورشامل ہوتے ہیں۔
نئے قانون میں صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کو مستشنی رکھا گیا ہے۔ یعنی صرف 13 سال سے زائد عمر کی بھینس کے ذبیحہ کی اجازت ہوگی۔ نئے قانون میں سزا کے سخت ترین دفعات کو شامل کیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو Cognizable offence یعنی قابل شناخت جرم قرار دیا گیا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کم سے کم 3 سال کی سزا اور زیادہ سے زیادہ 7 سال کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
جرمانہ کے لحاظ سے قانون کی پہلی مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر 50 ہزار سے 5 لاکھ روپئے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ دوسری مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ سے 10 لاکھ روپئے تک کا جرمانہ عائد ہوگا۔ سب انسپکٹر کو چھان بین کرنے کی اجازت ہوگی۔ نہ صرف دکانوں بلکہ گھروں میں بھی چھان بین کا اختیار ہوگا۔
گائے، بیل اور اس نسل سے جُڑے تمام مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ گائے اور بیل کی حفاظت کیلئے کام کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی بات 2020 کے انسداد گئو کشی قانون میں درج ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے سال 2020 کے اواخر میں پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی میں انسداد گئو کشی بل کو منظور کیا تھا, لیکن اس وقت یہ بل قانون ساز کونسل میں منظور نہیں ہوپایا۔ اس کے بعد حکومت نے آرڈیننس کے ذریعہ اس بل کو نافذ کیا تھا۔ 9 فروری 2021 کو وزیر مویشی پالن پربھو چوہان نے دوبارہ اس بل کو قانون ساز کونسل میں پیش کیا اور یہ بل صوتی ووٹ سے کونسل میں اسی دن یعنی 9 فروری 2021 کو ہی منظور ہوگیا۔
واضح رہے کہ کرناٹک میں اب تک گئو کشی پر پابندی کے 1964 کے قانون پر عمل کیا جارہا تھا جس کے تحت صرف گائے کی ذبیحہ پر پابندی عائد تھی اور بیل، بھینس کو ذبح کرنے کی اجازت تھی۔ لیکن اب سال 2020 کے نئے قانون میں سزا کے سخت ترین دفعات بھی شامل کئے گئے ہیں۔ جانوروں کے ٹرانسپورٹیشن کیلئے بھی کئی شرائط رکھی گئی ہیں۔